مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سعودی چینل الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم فلائی دبئی کی پرواز کے واقعے میں ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہتے۔
اس امریکی عہدیدار کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبررساں ادارے رائٹرز نے تحقیقات کے عمل سے باخبر ایک ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی حکام اس معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کرنے کی توقع کر رہے ہیں، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دبئی سے تل ابیب جانے والی ایک مسافر پرواز کو گرانے کی کوشش کی تھی۔
واضح رہے بدھ کے روز فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے مسافروں اور عملے کی بروقت کاروائی کے نتیجے میں معاون پائلٹ کو قابو کر لیا گیا اور ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاون پائلٹ نے بظاہر طیارے کو گرانے کی کوشش کے دوران پرواز کے پائلٹ کو چاقو سے زخمی کر دیا تھا۔ اس طیارے میں 174 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔
فلائی دبئی کے ایک ریزرو پائلٹ، جو اس پرواز میں مسافر کی حیثیت سے موجود تھا، نے طیارے کو شمال مغربی سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتارا، جہاں سعودی حکام نے معاون پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
آپ کا تبصرہ